-Advertisement-

صدر شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کو یقینی بنانے پر زور

تازہ ترین

جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی برقرار، رہائشیوں کو علاقے سے دور رہنے کی تنبیہ

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی دس روزہ جنگ بندی کے باوجود...
-Advertisement-

چینی صدر شی جن پنگ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کی نقل و حمل کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بیجنگ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں میں تیزی لا رہا ہے۔

چین نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ کے ارد گرد بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے مابین جنگ بندی کے معاہدے پر شدید دباؤ پیدا ہوا ہے جبکہ تہران نے فی الحال نئے امن مذاکرات میں شرکت سے گریز کا اشارہ دیا ہے۔

فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنے جہازوں کے علاوہ دیگر تمام بحری جہازوں کے لیے تقریباً بند کر رکھا ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے سے واشنگٹن نے ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ چین ایران کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے سعودی قیادت سے بات چیت میں کہا کہ چین فوری اور جامع جنگ بندی کا حامی ہے اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو معمول کی آمدورفت کے لیے کھلا رہنا چاہیے کیونکہ یہ خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے پیر کے روز امریکی اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایرانی جہاز کی جبری مداخلت قرار دیا اور متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کریں۔ صدر شی جن پنگ نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ چین مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے اور خطے میں دیرپا استحکام و امن کے فروغ کی حمایت کرتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -