-Advertisement-

ونڈ پاور کی بلاجواز بندش سے منصوبے دیوالیہ ہونے کے قریب، ایف پی سی سی آئی

تازہ ترین

ایران کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کی حکمت عملی میں واضح تضاد

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مابین تعلقات بظاہر خوشگوار دکھائی دیتے ہیں،...
-Advertisement-

کراچی میں پاکستان کے سرکردہ ونڈ انرجی پیدا کرنے والے اداروں کے کنسورشیم نے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر یعنی آئسمو کے حالیہ دعووں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ونڈ پاور پلانٹس کی بلا جواز بندش سے شعبہ قابل تجدید توانائی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ یہ سستی ترین بجلی محض 14 روپے فی یونٹ میں دستیاب ہے، لیکن اس کی مسلسل روک تھام سے قومی توانائی کا تحفظ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

سترہ مارچ 2026 کو فواد جاوید کی زیر صدارت ایف پی سی سی آئی کی کمیٹی برائے قابل تجدید توانائی کے اجلاس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ آئسمو کی جانب سے یہ بیان کہ بجلی کی بندش نہیں ہو رہی، حقائق کے منافی ہے۔ کنسورشیم کے مطابق موجودہ معاوضے کا طریقہ کار ناقص ہے جو منصوبوں کے مالیاتی نظام کو مفلوج کر رہا ہے۔

کنسورشیم نے وزارت توانائی اور نیپرا سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سستی اور صاف ستھری توانائی کو ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل کیا جائے۔ مہنگے آر ایل این جی پلانٹس کو بند کر کے ونڈ انرجی کو مکمل ڈسپیچ دی جائے تاکہ عوام کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بچایا جا سکے۔

ترجمان نے کہا کہ آئسمو کا یہ دعویٰ کہ ہمیں مناسب معاوضہ دیا جا رہا ہے، حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ سو فیصد تیاری کے باوجود صرف اڑتیس فیصد ادائیگی دیوالیہ پن کا راستہ ہے۔ یہ ایک معاشی المیہ ہے کہ ملک ایندھن کی درآمدی بلوں کے بوجھ تلے دبا ہے اور آئسمو سستی ونڈ انرجی کو ضائع کر رہا ہے۔

کنسورشیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اضافی ونڈ انرجی کو کے الیکٹرک گرڈ کی طرف منتقل کیا جائے اور گرڈ و ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ ونڈ پلانٹس کو بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز لگانے کی اجازت دی جائے اور نئے نیلامی کے عمل کو تب تک معطل رکھا جائے جب تک موجودہ پلانٹس کی مکمل صلاحیت استعمال نہ ہو جائے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ افتخار اوپل نے کہا کہ یہ محض تکنیکی ناکامی نہیں بلکہ عام آدمی کے خلاف معاشی جرم ہے، جس میں تھرمل پلانٹس کو ونڈ انرجی پر فوقیت دے کر ملکی توانائی کے تحفظ کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ڈسپیچ کے فیصلوں میں شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -