ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پنجاب میں شہری آزادیوں کے سکڑتے ہوئے دائرہ کار اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں پر بڑھتی ہوئی پابندیاں پاکستان میں جمہوری اقدار کی تنزلی کی عکاس ہیں۔ ریگولیشن یا ریسٹرکشن کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ این جی اوز کو متعدد اور پیچیدہ منظوری کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ان رکاوٹوں میں اکنامک افیئرز ڈویژن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط، ضلعی سطح پر این او سی کا حصول، سیکیورٹی کلیئرنس اور صوبائی چیریٹی کمیشن کے تحت دوبارہ رجسٹریشن شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان اقدامات نے تنظیموں کی آپریشنل صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں جمہوریت اور انسانی حقوق سے متعلق کئی اہم منصوبے معطل یا بند کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ عدالتوں نے اکنامک افیئرز ڈویژن کی 2022 کی پالیسی کو کالعدم قرار دے کر کچھ ریلیف فراہم کیا ہے، تاہم حقوق کے تحفظ کے لیے واضح قانونی فریم ورک کا فقدان انتظامی حکام کو وسیع تر صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کا موقع دے رہا ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ مشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ ریاستی ادارے قانونی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے انتظامی حربوں کے ذریعے سول سوسائٹی پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان حربوں میں منظوری میں تاخیر، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا اور تنظیموں کی بار بار جانچ پڑتال شامل ہیں۔ ان اقدامات نے خاص طور پر حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں اپنے وسائل ریگولیٹری تعمیل میں صرف کرنے پڑ رہے ہیں اور انہیں اپنی سرگرمیاں محدود یا ایڈوکیسی کے کام سے دستبردار ہونا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خواتین کی قیادت میں چلنے والی تنظیمیں اور اقلیتی برادریوں کے ساتھ کام کرنے والے گروپ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ گروپس نہ صرف غیر ریاستی عناصر کے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ انہیں ادارہ جاتی تعاون بھی نہ ہونے کے برابر مل رہا ہے۔
لاہور میں رپورٹ کے اجرا کے موقع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے رکن ذیشان نول نے کہا کہ قانونی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے شہری آزادیوں کا بتدریج خاتمہ جمہوری تنزلی کی ایک واضح شکل اختیار کر چکا ہے۔ مشن کے ایک اور رکن نسیم انتھونی کا کہنا تھا کہ یہ عمل معاشرے میں فکری آزادی کی گنجائش کو بھی محدود کر رہا ہے۔ ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے زور دیا کہ 2022 کی پالیسی کو چیلنج کرنے والے وکلاء کے مابین بہتر رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔ سمورگ کی نیلم حسین نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود تنظیموں کو اپنا کام اور مکالمے کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔
