وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز کو عوام کی مشکلات کے پیش نظر قبول نہیں کیا۔
وفاقی حکومت نے اس ہفتے ایندھن کی مد میں 56 ارب روپے کا بوجھ خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق عالمی منڈی کے موجودہ نرخوں کے حساب سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 544 روپے اور ڈیزل کی قیمت 790 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی، تاہم عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے پیٹرول 322 روپے اور ڈیزل 335 روپے فی لیٹر فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خطے میں بحران کے آغاز سے اب تک حکومت ایندھن پر 125 ارب روپے کا تاریخی مالی بوجھ برداشت کر چکی ہے۔
وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایندھن کی بچت کے لیے اپنی روزمرہ کی عادات میں تبدیلی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ سفر کرنے سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا یہ سفر ناگزیر ہے یا گاڑی اور موٹرسائیکل کا استعمال ہر بار ضروری ہے۔ کفایت شعاری اب ایک اختیار نہیں بلکہ ہماری مشترکہ ذمہ داری بن چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت تنہا اس مشکل صورتحال کا مقابلہ نہیں کر سکتی، لہذا عوام آئندہ چند دنوں میں اعلان کیے جانے والے جامع لائحہ عمل میں تعاون کریں۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے سفارتی سطح پر مخلصانہ اور بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور برادر اسلامی ممالک کو تباہ کن تنازعات سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس عمل میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پوری تندہی سے مصروف ہیں جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی مفاہمتی عمل کی کامیابی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
معاشی محاذ پر وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر کی بڑی معیشتیں بھی موجودہ بحران کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں۔ پاکستان نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے ہیں جن میں ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی اور سادگی کی مہم شامل ہے۔ وزیراعظم نے اعادہ کیا کہ عوام کی معاشی سیکیورٹی سے بڑھ کر ان کے لیے کچھ بھی اہم نہیں ہے۔
