-Advertisement-

پاکستان کا پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے پہلا قومی خشک سالی ایکشن پلان متعارف

تازہ ترین

چین نے ایمبوڈڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے لیے پہلے صنعتی معیار کا اعلان کر دیا

چین نے ایمباڈیڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے لیے اپنے پہلے صنعتی معیار کا اعلان کر دیا ہے جو مستقبل...
-Advertisement-

پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور قحط سالی سے نمٹنے کے لیے اپنی تاریخ کا پہلا قومی ایکشن پلان تیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد زراعت، پانی کے ذخائر اور خوراک کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے پیشگی اقدامات اور مربوط حکمت عملی وضع کرنا ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ ایک قومی مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ عائشہ حمیرا موریانی نے کہا کہ پاکستان کو اب ہنگامی امداد کے روایتی طریقوں سے نکل کر قحط سالی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فعال اور جدید حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور پانی کی قلت اب مستقل چیلنج بن چکے ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیٹا پر مبنی بروقت فیصلوں کی ضرورت ہے۔

وفاقی سیکریٹری نے بتایا کہ یہ منصوبہ انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ، محکمہ موسمیات اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں پاکستان ڈراٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور ابتدائی وارننگ کا نظام شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ایکشن پلان کا محور وسائل کی موبلائزیشن، حکومتی پالیسی سازی اور مقامی سطح پر تخفیف کے اقدامات ہیں۔

ورکشاپ میں وفاقی و صوبائی حکام کے علاوہ عالمی اداروں بشمول ایف اے او اور یوکے کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے قحط سالی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ پاکستان میں قحط سالی کے بڑھتے ہوئے اثرات زراعت، توانائی اور انسانی زندگی کے دیگر شعبوں کے لیے باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ایک مربوط فریم ورک فراہم کرنا ہے تاکہ قحط سے پہلے، دوران اور بعد میں موثر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

نئے ایکشن پلان کے تحت نیشنل ڈراٹ مینجمنٹ کمیٹی اور ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کے قیام کی تجاویز بھی شامل ہیں، جن کا مقصد وفاقی و صوبائی سطح پر اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور قحط زدہ علاقوں میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -