عالمی یومِ ارض کے موقع پر وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایات پر ملک بھر کی سرکاری عمارتوں کی غیر ضروری روشنیاں ایک گھنٹے کے لیے بند کر دی گئیں۔ یہ اقدام رات ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے نو بجے تک جاری رہا۔
اسلام آباد میں کانسٹی ٹیوشن ایونیو اور ریڈ زون کے علاقے مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب گئے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں قائم تمام سرکاری دفاتر کی غیر ضروری لائٹس بند رکھی گئیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں میں ماحولیاتی تحفظ کا شعور بیدار کرنا اور توانائی کی بچت کے پیغام کو فروغ دینا تھا تاکہ اس بات کو اجاگر کیا جا سکے کہ ماحول کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق صوبے بھر کے پانچ سو سے زائد مقامات پر روشنیاں بند کی گئیں۔ ان مقامات میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر، اہم شاہراہوں کی اسٹریٹ لائٹس، نجی عمارتیں اور مری ایمفی تھیٹر شامل تھے۔ اس دوران مختلف مقامات پر موم بتیاں بھی روشن کی گئیں۔
بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں بھی عالمی یومِ ارض کے سلسلے میں ایک گھنٹے تک بجلی کی غیر ضروری کھپت کو روکنے کے لیے روشنیاں بند رکھی گئیں۔
