کراچی: پاکستان کے معروف ونڈ انرجی پروڈیوسرز کے کنسورشیم نے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کے حالیہ دعووں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ونڈ پاور پلانٹس کی بلاجواز بندش سے شعبہ قابل تجدید توانائی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ 14 روپے فی یونٹ کی سستی ترین بجلی کی فراہمی کے باوجود اسے ضائع کرنا ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔
ایف پی سی سی آئی کی کمیٹی برائے قابل تجدید توانائی کے اجلاس میں، جس کی صدارت 17 مارچ 2026 کو فواد جاوید نے کی، کنسورشیم نے آئی ایس ایم او کے بیانات کو حقائق کے منافی قرار دیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ موجودہ معاوضے کا طریقہ کار ناقص ہے جس سے منصوبوں کا کیش فلو بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
کنسورشیم نے وزارت توانائی اور نیپرا سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگے آر ایل این جی پلانٹس کے بجائے سستی ونڈ انرجی کو ترجیح دی جائے۔ کنسورشیم کے مطابق 100 فیصد تیاری کے باوجود صرف 38 فیصد ادائیگی دیوالیہ پن کا باعث بن رہی ہے، جبکہ ملک مہنگی درآمدی ایندھن پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرنے پر مجبور ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یہ تکنیکی ناکامی نہیں بلکہ عام آدمی کے خلاف معاشی جرم ہے، جہاں مفت ہوا سے بننے والی سستی بجلی ضائع کر کے عوام پر مہنگے ایندھن کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
کنسورشیم نے مطالبہ کیا ہے کہ مسٹ رن پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے، این پی ایم وی فارمولے کی اصلاح کی جائے اور زائد ونڈ انرجی کو کے-الیکٹرک گرڈ تک پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں۔ اس کے علاوہ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) کی تنصیب کی اجازت دی جائے اور گرڈ انفراسٹرکچر کی تکمیل تک نئی نیلامی کا عمل روک دیا جائے۔
اس حوالے سے سیکرٹری جنرل بریگیڈیئر ریٹائرڈ افتخار اوپل نے مطالبہ کیا ہے کہ ان فیصلوں میں شفافیت لائی جائے جو ملکی توانائی کی سیکیورٹی کے بجائے تھرمل پلانٹس کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
