عمان کے ساحلی شہر برکا میں ایک پاکستانی مزدور شہزاد خان نے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے سیلابی ریلے میں پھنسی گاڑی سے دو بھارتی شہریوں کو بحفاظت نکال کر نئی زندگی دی۔ پچیس سالہ شہزاد خان، جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے شبقدر سے ہے، نے اس مشکل وقت میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر سیلابی پانی میں اتر کر یہ کارنامہ انجام دیا۔
واقعہ اکیس مارچ کو عید الفطر کی تعطیلات کے دوران پیش آیا جب عمان میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر گئے تھے۔ شہزاد خان، جو تیراکی نہیں جانتے، نے بہتے ہوئے پانی میں گاڑی پر چڑھ کر پہلے پتھر کی مدد سے شیشہ توڑا اور پھر انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑی میں محصور دو بھارتی شہریوں کو باہر نکالا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ان کے ذہن میں صرف انسانیت تھی اور انہیں اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ گاڑی میں سوار افراد کا تعلق کس ملک سے ہے۔
شہزاد خان نے اس واقعے کا موازنہ دو ہزار پچیس میں سوات میں پیش آنے والے سانحے سے کیا، جہاں ایک ہی خاندان کے کئی افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے اور کوئی مدد کو نہیں پہنچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انہیں وہی خوف محسوس ہوا اور انہوں نے تہیہ کر لیا کہ وہ ان لوگوں کی جان ضرور بچائیں گے۔
اس بہادرانہ اقدام پر عمان میں تعینات پاکستانی سفیر سید نوید صفدر بخاری نے شہزاد خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں قومی ہیرو قرار دیا۔ سفارت خانے کی جانب سے انہیں تعریفی سند سے بھی نوازا گیا۔ سفیر کا کہنا تھا کہ تیراکی نہ جاننے کے باوجود یہ ریسکیو آپریشن ایک بے مثال کارنامہ ہے۔
شہزاد خان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد بھارتی شہریوں کی جانب سے ملنے والی محبت اور پذیرائی ان کے لیے باعث مسرت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کام صرف اللہ کی رضا اور انسانیت کی خاطر کیا تھا اور انہیں فخر ہے کہ ان کے اس اقدام سے پاکستان کا نام روشن ہوا۔
