-Advertisement-

حکومت نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی افواہوں کو مسترد کر دیا

تازہ ترین

خواتین میں منشیات کی لت: ایک خاموش مگر سنگین سماجی بحران

حیات ری ہیب کلینک کے سی ای او اور کلینیکل ماہر نفسیات ڈاکٹر شمشیر حیات نے انتباہ کیا ہے...
-Advertisement-

وزارت اطلاعات و نشریات نے اتوار کے روز ملک بھر میں اختتام ہفتہ پر مکمل لاک ڈاؤن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور جعلی قرار دیا ہے۔

وزارت کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے آفیشل فیکٹ چیکر اکاؤنٹ کے ذریعے اس وائرل دستاویز کو جعلی قرار دے کر عوام کو گمراہ کن معلومات سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزارت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ خبروں کو پھیلانے سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔

مذکورہ جعلی دستاویز میں وزیراعظم شہباز شریف سے منسوب ہدایات میں خلیجی ممالک میں جاری تیل کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے ہفتہ اور اتوار کے روز ملک گیر لاک ڈاؤن کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ جعلی نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ پابندی پانچ اپریل سے ہر ہفتے کی رات بارہ بج کر ایک منٹ سے اتوار کی رات گیارہ بج کر انسٹھ منٹ تک نافذ رہے گی۔

دوسری جانب وفاقی حکومت توانائی کی بچت اور ایندھن کے بحران پر قابو پانے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن اور کفایت شعاری کے اقدامات پر غور کر رہی ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی سرکاری اعلان یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔

زیر غور تجاویز کے مطابق مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کو رات ساڑھے نو بجے بند کرنے جبکہ شادی ہالز میں مہمانوں کی تعداد دو سو تک محدود رکھنے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے علاوہ شادی کی تقریبات میں ون ڈش پالیسی پر عمل درآمد اور رات دس بجے تک تقریبات کے اختتام کی تجاویز بھی زیر غور ہیں جن کا مقصد توانائی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -