میان چنوں میں پولیس کے مال خانے سے منشیات غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد تین کانسٹیبلز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں منشیات کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔
مقدمہ سٹی پولیس اسٹیشن میان چنوں میں محمد عمران نامی ملزم کے خلاف درج تھا۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے کا عدالتی ریکارڈ یا مال خانہ سے لایا گیا سامان پیش کیا جائے۔
عدالت کی جانب سے معائنے کے دوران یہ تہلکہ خیز انکشاف ہوا کہ چرس کے نام پر موجود پیکٹ میں اصل منشیات کے بجائے کالا صابن موجود تھا۔ اس سنگین غفلت اور شواہد سے چھیڑ چھاڑ پر عدالت نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انویسٹی گیشن آفیسر راشد احمد نے عدالت سے کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت میں پیش کیا گیا پیکٹ ان کی مہر یا دستخطوں سے تصدیق شدہ نہیں تھا۔ معاملے کی اطلاع ملنے پر ڈی پی او محمد عابد نے فوری انکوائری کا حکم دیا۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مال خانے کے عملے نے ملی بھگت کر کے منشیات کو صابن سے تبدیل کیا۔ ایف آئی آر میں یہ بھی درج کیا گیا ہے کہ چرس اور افیون کے دیگر پیکٹوں کے ساتھ بھی اسی طرح کی خرد برد کی گئی ہے۔
