-Advertisement-

علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیت لیا

تازہ ترین

برطانوی وزیراعظم کی خلیجی ممالک آمد، آبنائے ہرمز کی بحالی اور امن کے قیام پر بات چیت

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر بدھ کے روز خلیجی ممالک کا دورہ کریں گے جس کا مقصد امریکہ اور ایران...
-Advertisement-

پاکستانی گلوکار علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ میشا شفیع کی جانب سے آٹھ سال قبل عائد کیے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔

میشا شفیع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر می ٹو ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے علی ظفر پر ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ علی ظفر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا جس کا فیصلہ گزشتہ ہفتے سنایا گیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج آصف حیات نے 159 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ میشا شفیع کا ٹویٹ جھوٹا، ہتک آمیز اور نقصان دہ تھا۔ عدالت نے میشا شفیع کو حکم دیا کہ وہ علی ظفر کی ساکھ، وقار اور ذہنی سکون کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے طور پر پچاس لاکھ روپے ادا کریں۔

عدالتی فیصلے میں گواہوں کے بیانات اور دونوں فریقین کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ الزامات نہ تو ثابت ہو سکے اور نہ ہی یہ عوامی مفاد میں تھے، اس لیے یہ عمل قابل دست اندازی ہتک عزت کے زمرے میں آتا ہے۔

فیصلے کے بعد میشا شفیع نے انسٹاگرام پر اپنے ردعمل میں کہا کہ جو لوگ اسے شکست قرار دے رہے ہیں وہ دوبارہ غور کریں، یہ شکست نہیں بلکہ تاریخ رقم ہوئی ہے۔

ادھر علی ظفر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اللہ اور ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کی زندگی کے مشکل ترین وقت میں ان کا اور سچ کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی جیت ہوئی ہے، انہیں کوئی تکبر نہیں بلکہ عاجزی محسوس ہو رہی ہے۔ گلوکار نے مزید کہا کہ وہ کسی کے خلاف دل میں کوئی برائی نہیں رکھتے اور اب یہ باب بند ہو چکا ہے، دعا ہے کہ سب آگے بڑھ سکیں۔

اس مقدمے نے پاکستانی سوشل میڈیا کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا جہاں دونوں فریقین کے حق میں شدید آراء کا اظہار کیا جاتا رہا۔ کیس کی سماعت کے دوران میشا شفیع کی نمائندگی ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے کی جبکہ علی ظفر کے وکیل ایڈووکیٹ عمر طارق گل تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -