اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے آئے تھے تاہم امریکہ کو ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے لیے عملی عزم کی ضرورت ہے۔ ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور تہران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت انتہائی گہری اور طویل تھی۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی مطالبات اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز، جوہری مسئلے، جنگی ہرجانے اور پابندیوں کے خاتمے سمیت خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر بات ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار فریق ثانی کی سنجیدگی اور ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرنے پر ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین نے ایران کو ہتھیار فراہم کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیجنگ ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کی تیاری کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں جاری ان مذاکرات کے لیے ایران کی جانب سے پاسداران انقلاب، فضائیہ اور بحریہ کے اعلیٰ حکام بھی پاکستان پہنچے ہیں جو وفد کو تکنیکی مشاورت اور لاجسٹک معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی یہ بات چیت امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست روابط کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
