ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک دشمن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور اب اس کی حکومت ترکی کو اپنا نیا ہدف بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اناطولیہ ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے کہا کہ ایران کے بعد اب اسرائیل کو ایک نئے دشمن کی تلاش ہے اور نیتن یاہو کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے کچھ ارکان بھی ترکی کو دشمن قرار دینے کے درپے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اسرائیل کی ایک نئی ریاستی حکمت عملی بنتی جا رہی ہے۔
غزہ میں سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے واقعات کے بعد سے اسرائیل اور ترکی کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ کچھ عناصر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے اشتعال انگیزی کر سکتے ہیں۔
اس بیان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صدر اردوان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور تہران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ اسی دوران اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی صدر اردوان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کاغذی شیر قرار دیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ صدر اردوان ایران کی جانب سے ترکی کی حدود میں میزائل فائر پر خاموش رہے اور اب وہ اینٹی سیمیٹزم کا سہارا لے رہے ہیں۔
ترکی کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی قیادت کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچائیوں کا سامنا کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے نیتن یاہو کو اپنے جرائم کی وجہ سے عصر حاضر کا ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد خطے میں جاری امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کو فروغ دینا ہے۔
ترک وزارت خارجہ کے مطابق نیتن یاہو اپنے اندرونی کرپشن مقدمات اور ممکنہ قید سے بچنے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت پہلے ہی نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔ ترکی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ہر پلیٹ فارم پر حقائق بیان کرنا جاری رکھے گا۔
