-Advertisement-

پاکستان علاقائی تنازعات کے فوری حل کا خواہاں ہے، ایاز صادق

تازہ ترین

امریکی حملے کے کسی بھی امکان کے لیے تیار ہیں، کیوبن صدر

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ امریکی حملے...
-Advertisement-

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے استنبول میں انٹر پارلیمنٹری یونین کے 152 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی تنازعات کے فوری حل کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان فریقین کے مابین بات چیت کو فروغ دینے اور تنازعات کے خاتمے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان پارلیمانی سفارت کاری کو باہمی اعتماد، تعاون اور تنازعات سے بچاؤ کا لازمی ذریعہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے انکار جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے پانچ اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارت کی جارحانہ بیان بازی پر تشویش کا اظہار کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے اور پاکستان اپنے پانی کے حصے کے تحفظ کا مکمل حق رکھتا ہے۔

فلسطین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے غزہ امن منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت وقت کے پابند سیاسی عمل پر زور دیا۔

علاقائی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیل پر ایران اور امریکہ کا مثبت ردعمل خوش آئند ہے۔ انہوں نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔

آخر میں اسپیکر نے افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کا دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہونا خطے اور عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -