پنجاب کو پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے والا مرکز تسلیم کیا جاتا ہے جہاں گندم، چاول، گنا، مکئی اور کپاس جیسی اہم فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ تاہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صوبے کے بدلتے ہوئے موسمی حالات نے زراعت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ بارشوں کے غیر متوقع معمولات، بڑھتی ہوئی تپش اور سردیوں کے دورانیے میں کمی نے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہوئے فصلوں کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی رپورٹوں کے مطابق سال 2000 سے پنجاب کے اوسط درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ بارشوں کا کوئی مستقل پیٹرن نہ ہونے سے قدرتی زرعی چکر درہم برہم ہو چکا ہے۔ فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی تحقیق کے مطابق درجہ حرارت میں ایک سے چار ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے سے گندم کی پیداوار میں نو سے تیس فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پنجاب کے اسی فیصد سے زائد کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے براہ راست اثرات بھگت رہے ہیں۔ وسطی پنجاب میں بارشوں کے غیر معمولی پیٹرن کے باعث کہیں شدید قحط تو کہیں سیلابی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ اپریل میں غیر متوقع بارشیں گندم کی کٹائی کو متاثر کر رہی ہیں جبکہ جولائی اور اگست کی شدید بارشیں کپاس اور چاول کی فصلوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کے ایگزیکٹو ممبر ڈاکٹر انجم علی کا کہنا ہے کہ روایتی مانسون کا نظام تبدیل ہو چکا ہے اور اب بارشیں مختصر وقت میں انتہائی شدت کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موسمی تغیرات کے باعث کاشتکار کپاس کی بجائے گنے، چاول اور مکئی جیسی زیادہ پانی مانگنے والی فصلوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کو شدید موسمی حالات سے بچانے کے لیے مختصر دورانیے کے بیجوں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث فصلوں پر کیڑوں کے حملے بڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر بٹر نے زرعی شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کلسٹر فارمنگ اور پانی کے بہتر ذخیرہ اندوزی کے نظام کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔
ترقی پسند کسان عامر حیات بھنڈارہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں نے بوائی اور کٹائی کے روایتی اوقات کو متاثر کیا ہے۔ مارچ اور اپریل میں ہونے والی غیر متوقع بارشیں گندم کی فصل کو نقصان پہنچاتی ہیں جبکہ اچانک بڑھتی ہوئی گرمی فصلوں کے قبل از وقت پکنے کا سبب بن رہی ہے جس سے پیداوار میں کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو مالی تحفظ اور بروقت موسمیاتی معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ برس کسان گندم کی کاشت سے ہاتھ کھینچ سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ درآمدات پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے مقامی کسانوں کی مدد کی جانی چاہیے۔
