-Advertisement-

پاکستان نے ایران کے راستے نئے ٹرانزٹ تجارتی راہداری کا آغاز کر دیا

تازہ ترین

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے پرامید ہیں: ترک وزیر خارجہ

ترکی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے...
-Advertisement-

پاکستان نے ایران کے راستے ایک نئے ٹرانزٹ ٹریڈ کوریڈور کو فعال کر دیا ہے جس سے علاقائی رابطوں کو فروغ ملے گا اور روایتی افغان روٹ پر انحصار میں کمی آئے گی۔ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن این ایل سی نے گبد بارڈر ٹرمینل کو ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل روڈز یعنی ٹی آئی آر سسٹم کے لیے فعال کر دیا ہے۔

یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے اندر ایران کے ساتھ تجارت کو وسعت دینے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے تناظر میں یہ کوریڈور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان نے اس نئے کوریڈور کے تحت کراچی سے تاشقند کے لیے پہلی برآمدی کھیپ روانہ کر دی ہے جس سے جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک باضابطہ تجارتی راستے کا آغاز ہوا ہے۔ گبد ریمدان بارڈر ٹرمینل بلوچستان کے علاقے گبد اور ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے ریمدان کے درمیان واقع ہے۔

اس ٹرمینل کو جدید اسکیننگ سسٹمز اور ٹی آئی آر فریم ورک کی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے اور اپریل 2026 سے یہاں کنٹینرائزڈ اور ریفریجریٹڈ کارگو کی نقل و حمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ این ایل سی کی جانب سے تیار کردہ یہ ٹرمینل ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک سامان کی ترسیل کے لیے ایک محفوظ اور مختصر متبادل فراہم کرتا ہے۔

پہلی کھیپ میں منجمد گوشت شامل تھا جسے ٹی آئی آر سسٹم کے تحت روانہ کیا گیا۔ کسٹم کلیئرنس کے بعد یہ کنسائنمنٹ ایران کے راستے ازبکستان کے لیے روانہ ہوئی۔ کراچی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کسٹم حکام اور لاجسٹک ماہرین نے اسے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوریڈور برآمد کنندگان کو وسطی ایشیائی منڈیوں، بالخصوص ازبکستان تک کم خرچ اور قابل اعتماد رسائی فراہم کرے گا جس سے ٹرانزٹ وقت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کو علاقائی رابطوں کا مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس اقدام کو ایک شاندار کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقائی تجارت اور معاشی انضمام کے نئے دروازے کھلیں گے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جے ہوتھ نے کہا کہ ایران کے راستے ازبکستان کے لیے پہلی کھیپ کی روانگی ایک تاریخی قدم ہے اور گوادر جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کو ملانے والے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -