-Advertisement-

پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی حدود پر پابندی کو ایک سال مکمل، بھارتی ایئرلائنز کو بھاری نقصان

تازہ ترین

نواز شریف کی عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کرنے پر وزیراعظم اور آرمی چیف کی تعریف

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب...
-Advertisement-

پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی حدود پر پابندیوں کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے اور اسلام آباد نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند رکھنے کے فیصلے میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے منگل کو جاری کردہ نوٹس ٹو ایئر مین کے مطابق بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود 24 مئی تک بند رہیں گی۔

یہ پابندیاں اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کشیدگی کے تناظر میں عائد کی گئی تھیں۔ تب سے اب تک متعدد بار توسیع کے بعد یہ پابندیاں تیرہویں مہینے میں داخل ہو چکی ہیں۔

فضائی حدود کی طویل بندش سے بھارتی ایئرلائنز بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ طویل متبادل راستوں کے انتخاب کے باعث پروازوں کے دورانیے میں کئی گھنٹے کا اضافہ ہوا ہے جس سے ایندھن کی کھپت اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض پروازوں کو بیرون ملک ایندھن بھروانے کے لیے رکنا پڑ رہا ہے جبکہ کچھ روٹس پر سروسز مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ اخراجات کا بوجھ براہ راست مسافروں پر پڑ رہا ہے جنہیں مہنگے ٹکٹ خریدنے پڑ رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے اندازوں کے مطابق صرف ایئر انڈیا کو ان پابندیوں کے باعث سالانہ تقریباً 40 ارب بھارتی روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس قومی ایئرلائن پی آئی اے پر اس صورتحال کا اثر محدود ہے کیونکہ ان متاثرہ روٹس پر پی آئی اے کا نیٹ ورک مختصر ہے اور پابندی سے قبل بھی بہت کم پروازیں بھارتی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں۔

بھارتی ایئرلائنز کے یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکہ کے لیے وسیع روٹس ہیں جس کی وجہ سے وہ مختصر راستوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود پر انحصار کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی فضائی حدود کھلی ہوتیں تو انڈی گو اور ایئر انڈیا جیسی کمپنیاں شمالی ایران کے راستے یورپ اور دیگر مغربی مقامات تک براہ راست پروازیں کر سکتیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور وہاں کی فضائی پابندیوں نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے آپریشنل مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -