-Advertisement-

عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو ‘گریٹر مڈل ایسٹ’ بلاک میں شامل کرنے کا فیصلہ: معاشی اثرات کیا ہوں گے؟

تازہ ترین

پولیو کیسز میں نمایاں کمی، وزیراعظم کا ملک سے مرض کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ...
-Advertisement-

عالمی بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے گروپ سے نکال کر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے نئے اور توسیع شدہ بلاک میں شامل کر دیا ہے۔ اپریل 2026 کی اقتصادی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کو اب میناپ یعنی مڈل ایسٹ، نارتھ افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے گروپ کا حصہ بنا دیا گیا ہے جس کے بعد اس بلاک میں ممالک کی تعداد 22 سے بڑھ کر 24 ہو گئی ہے۔

اس نئے بلاک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران اور اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ کے 14 اور شمالی افریقہ کے 8 ممالک شامل ہیں۔ عالمی بینک نے اس تبدیلی کو محض انتظامی اور تجزیاتی اقدام قرار دیا ہے تاہم ماہرین کے نزدیک یہ فیصلہ پاکستان کی معاشی سمت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ماضی میں پاکستان کا موازنہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسی علاقائی معیشتوں سے کیا جاتا تھا لیکن اب اسے خلیجی ممالک اور خطے کی دیگر ترقی پذیر ریاستوں کے ساتھ پرکھا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی پاکستان کے لیے خطرات اور مواقع دونوں لے کر آئی ہے۔

پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر پر ہے اور اسے مینا خطے کے ممالک جیسے آبادی کے دباؤ، روزگار کے فقدان اور نجی شعبے کی محدود کارکردگی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس نئے گروپ میں پاکستان سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جس سے اسے عالمی بینک سے فنڈنگ حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسی خوشحال معیشتوں کے ساتھ تقابل کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کی کارکردگی کمزور دکھائی دے سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان اس شمولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنائے اور براہ راست سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے تو یہ اقدام طویل مدتی معاشی استحکام کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -