پاور ڈویژن نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صوبوں کی جانب سے بجلی کی طلب میں اضافے کے باوجود گزشتہ رات پیک آورز کے دوران بجلی کی فراہمی مستحکم رہی۔
ترجمان کے مطابق ڈیموں سے پانی کے بہتر اخراج کے باعث پیک آورز کے دوران 5 ہزار 125 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی۔ گرڈ کے نظام میں بہتری کے نتیجے میں جنوبی ریجن سے مرکزی گرڈ کو 400 میگاواٹ بجلی کی ترسیل بھی کامیابی سے ممکن بنائی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے طلب میں اضافے کے باوجود بجلی کی فراہمی کو بہتر رکھا اور بیشتر علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کا دورانیہ ایک سے دو گھنٹے تک محدود رہا۔
پاور ڈویژن نے وضاحت کی کہ زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر پالیسی کے مطابق اقتصادی لوڈ مینجمنٹ کا عمل جاری رہے گا، جس کا پیک آورز کی لوڈ شیڈنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی وافر فراہمی یقینی بنتے ہی پیک آورز میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
موجودہ صورتحال کے مطابق ایل این جی کی قلت کی وجہ سے 5 ہزار 500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت غیر فعال ہے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر برائے پاور اویس لغاری نے ڈسکوز کی جانب سے میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چھوٹے پیدا کنندگان سے بجلی خریدنے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ وزیر نے تمام ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ بجلی کی خریداری کو نیپرا کے مقرر کردہ ضوابط کے عین مطابق بنایا جائے۔
