-Advertisement-

گورنر خیبر پختونخوا کی افغان مہاجرین کے کیمپوں میں سہولیات اور ڈیٹا سسٹم بہتر بنانے کی ہدایت

تازہ ترین

ریڈ زون کی بندش: وفاقی عدالت نے آج کی تمام عدالتی کارروائی ملتوی کر دی

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے ریڈ زون کی بندش کے پیش نظر آج بروز جمعرات اپنی مرکزی...
-Advertisement-

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے افغان مہاجرین کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں کمشنر افغان مہاجرین شکیل صافی، چیئرمین پاکستان ہلال احمر ضم شدہ اضلاع عمران وزیر اور نادرا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع بشمول پشاور، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، بونیر، مردان، صوابی، ملاکنڈ، دیر، مانسہرہ، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ہری پور اور چترال میں 43 کیمپ قائم کیے گئے تھے، جن میں سے واپسی کے عمل کے باعث اب تک 10 کیمپ خالی کرائے جا چکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 سے 2025 کے دوران تقریباً 20 لاکھ غیر دستاویزی افغان مہاجرین مرحلہ وار اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ نادرا کی جانب سے طورخم اور لنڈی کوتل بارڈر پر بائیو میٹرک تصدیق کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ واپسی کے عمل کو شفاف بنایا جا سکے۔ فی الوقت طورخم بارڈر کے راستے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 3 ہزار مہاجرین وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بارڈر کی عارضی بندش سے واپسی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر مقیم مہاجرین کے بینک اکاؤنٹس اور موبائل سمز بلاک کر دی گئی ہیں۔ پاکستان ہلال احمر ضم شدہ اضلاع کی جانب سے طورخم بارڈر پر مہاجرین کو پینے کا صاف پانی، بنیادی طبی سہولیات اور ایمبولینس سروس فراہم کی جا رہی ہے، جس سے اب تک 13 ہزار افراد مستفید ہو چکے ہیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ کوہاٹ اور پشاور سمیت دیگر اضلاع میں موجود کیمپوں میں مہاجرین کی بائیو میٹرک رجسٹریشن اور ڈیٹا کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ ان کی باعزت واپسی میں حائل مشکلات کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے لنڈی کوتل ٹرانزٹ پوائنٹ پر مہاجرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا۔

گورنر نے افغان کمشنریٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی دیکھ بھال اور ان کی باعزت وطن واپسی کے انتظام میں ادارہ احسن کردار ادا کر رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -