-Advertisement-

پاکستان ہاکی ٹیم کی تشکیلِ نو: جدید خطوط پر تربیت کا آغاز، ایشیا کپ ہدف قرار

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد دنیا کی اہم ترین گزرگاہ ‘آبنائے ملاکا’ پر عالمی توجہ

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایشیائی پالیسی سازوں کی جانب سے دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستے آبنائے...
-Advertisement-

قومی ہاکی ٹیم کے چیف سلیکٹر سمیع اللہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان ہاکی اسکواڈ کو دوبارہ منظم اور متوازن بنانے کے لیے جدید تربیتی تکنیکوں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور ایشیا کپ کو ہماری اولین ترجیح حاصل ہے۔

پشاور میں چائنا ونڈو کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک بھر سے باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش کے لیے پشاور میں سینئر ٹیم کے اوپن ٹرائلز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نچلی سطح پر ہاکی کے احیاء کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی کے اراکین بشمول اولمپینز ناصر علی، نعیم اختر، ایاز محمود، عاطف بشیر، شکیل عباسی اور کاشف جاوید بھی موجود تھے۔

سمیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ کسی بڑے بین الاقوامی ایونٹ میں کامیابی پاکستان میں انٹرنیشنل ہاکی کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہاکی کو اسپانسرشپ کی کمی اور کھلاڑیوں کو درپیش مالی مسائل جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے لیے بہتر معاونت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کلب کی سطح پر ڈھانچے کا جائزہ لینے کے لیے کام جاری ہے۔ سمیع اللہ خان نے پرامید لہجے میں کہا کہ ہمارا فوری ہدف ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کرنا ہے جبکہ ہاکی ورلڈ کپ میں بھی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مسلسل اور مخلصانہ کوششوں سے پاکستان اپنی کھوئی ہوئی ہاکی کی شان دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -