پاکستان محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں رواں سیزن کی پہلی شدید ہیٹ ویو کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت معمول سے نمایاں طور پر بلند رہے گا۔ یہ سلسلہ جمعہ یعنی آج سے شروع ہو کر 5 مئی تک جاری رہے گا۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے ملک گیر الرٹ جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق 5 مئی تک کئی علاقوں میں شدید گرمی رہے گی جبکہ 24 سے 29 اپریل کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ طوفان کا بھی امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق موجودہ موسمیاتی صورتحال تین سے چار ماہ قبل جاری کردہ موسمیاتی آؤٹ لک کے عین مطابق ہے۔ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان اور تربت میں درجہ حرارت انتہائی درجے تک پہنچ سکتا ہے۔
پنجاب کے وسطی اضلاع اور خیبر پختونخوا میں بھی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ تاہم 24، 25 اور 29 اپریل کو مری، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، میانوالی، سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور، ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں گرد آلود ہواؤں اور بارش کی توقع ہے۔
بلوچستان کے شمالی اضلاع بشمول کوئٹہ، زیارت، قلات اور خضدار میں 24 سے 25 اور 27 سے 29 اپریل کے دوران تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ گوادر سمیت ساحلی علاقے گرم اور خشک رہیں گے جہاں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے اضلاع چترال، دیر، سوات، ملاکنڈ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، مردان، صوابی، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرم میں بھی وقفے وقفے سے بارش اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں 24 سے 29 اپریل تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ہیٹ ویو کے باعث ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی جیسے طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔
متعلقہ اداروں کو ہیٹ ویو رسپانس پلان فعال کرنے، کولنگ سینٹرز قائم کرنے اور ہسپتالوں کو ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عوام کو بروقت معلومات کے لیے این ڈی ایم اے کی موبائل ایپلیکیشن پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
