-Advertisement-

پہلگام فالس فلیگ آپریشن: بھارت پاکستان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام

تازہ ترین

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور اسحاق ڈار سے ملاقات

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر...
-Advertisement-

پہلگام واقعے کو ایک برس مکمل ہونے کے باوجود پاکستان پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے شکوک و شبہات برقرار ہیں اور بھارت کے اندر سے ہی ان دعووں کے ثبوت اور شفافیت کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

اس واقعے پر نہ صرف عالمی سطح پر تنقید کی گئی بلکہ بھارتی حلقوں میں بھی سکیورٹی انتظامات اور صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

سابق رکن لوک سبھا سمرن جیت سنگھ مان نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ملوث ہونے کے دعووں کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور انہوں نے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

سکھ رہنما گوپال سنگھ چاولہ نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوے بے بنیاد ہیں اور انہیں تنقیدی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔

بھارتی جریدے دی وائر نے شواہد کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ رکن پارلیمنٹ چرن جیت سنگھ چنی نے واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس رہنما ملکارجن کھڑگے نے اس واقعے کو انٹیلی جنس کی ناکامی کا عکاس قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سکیورٹی الرٹس ملنے کے بعد جموں و کشمیر کا دورہ منسوخ کیا تھا۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھردواج اور سابق بھارتی سفارت کار کے پی فابیئن نے بھی پہلگام واقعے کے گرد بنے گئے بیانیے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت کے اندر سے اٹھنے والی یہ آوازیں اس بات کی عکاس ہیں کہ پہلگام واقعے کے بعد کیے جانے والے دعووں کے بارے میں شفافیت اور ٹھوس شواہد کی فوری ضرورت ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -