-Advertisement-

امریکی وفد کا دورہ پاکستان، ایران کی براہِ راست مذاکرات سے انکار

تازہ ترین

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور اسحاق ڈار سے ملاقات

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر...
-Advertisement-

امریکی مذاکرات کاروں کا وفد ہفتے کے روز پاکستان روانہ ہو رہا ہے تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کے حکام امریکی وفد سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیریڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے تاکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مذاکرات کر سکیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ تہران کے تحفظات ثالث ملک پاکستان کے ذریعے پہنچائے جائیں گے اور امریکی نمائندوں سے براہ راست ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرنے کا موقع موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جانتا ہے کہ دانشمندانہ فیصلے کے لیے دروازہ اب بھی کھلا ہے اور انہیں صرف جوہری ہتھیاروں کو قابل تصدیق طریقے سے ترک کرنا ہوگا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکی مطالبات پورے کرنے کے لیے ایک پیشکش تیار کر رہا ہے تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایرانی جانب سے کچھ پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان کے دورے کے لیے تیار ہیں۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں نے عالمی معیشت کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد معمول کے 130 سے کم ہو کر گزشتہ 24 گھنٹوں میں صرف 5 رہ گئی ہے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان تین ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے تاہم جنوبی لبنان میں لڑائی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اسرائیلی حملوں میں اب تک ہزاروں شہری اور صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔ تہران کا موقف ہے کہ لبنان میں مکمل جنگ بندی مذاکرات کے لیے پہلی شرط ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز دو ہفتوں کی جنگ بندی میں یکطرفہ طور پر توسیع کی تھی تاکہ مذاکرات کاروں کو مزید وقت مل سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -