-Advertisement-

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر کے پاسپورٹ و امیگریشن قوانین بحال کر دیے

تازہ ترین

600 جوتوں سے عالمی برانڈ تک: چینی کمپنی ‘اینٹا’ کے عروج کی دلچسپ کہانی

چین میں انیس سو اسی کی دہائی کے اواخر میں معاشی دروازے کھلنے کے بعد ابھرنے والے کاروباری افراد...
-Advertisement-

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کو بحال کر دیا ہے۔ اس حکم کے بعد حکومت کے پاس شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کے اختیارات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کے روز کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے حکومتی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ بیرون ملک غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے افراد سے متعلق ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فرحان علی نامی شہری غیر قانونی طور پر ایران گیا تھا جہاں سے اسے ڈیپورٹ کر دیا گیا۔ اس غیر قانونی فعل کے بعد اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل عامر رحمٰن نے موقف اختیار کیا کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے اور پاسپورٹ غیر فعال کرنے کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔

بینچ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا مذکورہ شخص نے خود سفر کیا یا وہ مالی مفاد کے لیے اٹلی جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کی معاونت میں ملوث تھا۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے بھی انکوائری کی تفصیلات طلب کر لیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایف آئی اے سے ابھی تک مکمل معلومات موصول نہیں ہوئیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کے قاعدہ تین اور دس کو کالعدم قرار دیا تھا۔ تاہم آئینی عدالت نے اس فیصلے کو معطل کر کے فی الحال ان قوانین کو بحال کر دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -