پنجاب اسمبلی نے اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس قانون کے تحت اب صوبے بھر میں نکاح کے لیے دلہا اور دلہن دونوں کی کم از کم عمر اٹھارہ برس ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام چائلڈ میرج ایکٹ انیس سو انتیس کی جگہ نافذ کیا جا رہا ہے۔
نئے قانون کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر شادی کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور اسے جنسی استحصال کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ کسی بھی زبردستی کی شادی کی صورت میں متاثرہ بچے کو عدالتی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ نابالغ سے شادی کرنے والے شخص کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر کسی نابالغ کو شادی کے لیے پنجاب سے دوسرے صوبے منتقل کیا گیا تو مرتکب شخص کو سات سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
قانون کا اطلاق والدین اور نکاح خواں پر بھی ہوگا۔ نابالغ بچوں کے سرپرستوں کو دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح نکاح رجسٹر کرنے یا کروانے والے افراد کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل دو ہزار چھبیس کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے جس کے بعد انیس سو انتیس کا پرانا قانون ختم تصور ہوگا۔
