-Advertisement-

حکومت کا 25 کلو واٹ تک سولر صارفین کے لیے لائسنس کی شرط ختم کرنے کا اعلان

تازہ ترین

امریکی سینیٹ میں کیوبا کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد ریپبلکنز نے ناکام بنا دی

واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک ارکان نے منگل کے روز ایک قرارداد پر ووٹنگ کرانے کی کوشش کی...
-Advertisement-

شمسی توانائی کے صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت نے نیٹ میٹرنگ اسکیم کے تحت 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹم کی تنصیب پر لائسنس کی شرط ختم کر دی ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کی خصوصی ہدایت پر پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا سے باضابطہ رابطہ کیا تھا جس میں چھوٹے پیمانے پر سولر تنصیب کرنے والوں کے لیے لائسنس کی شرط کو ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

نیپرا نے حکومتی درخواست کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد گھریلو اور چھوٹے تجارتی صارفین کے لیے سولر سسٹم لگانے کا عمل سادہ ہو گیا ہے۔ اب 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹم لگانے والے صارفین کو ریگولیٹر کو ایک ہزار روپے فی کلو واٹ کے حساب سے ون ٹائم فیس ادا نہیں کرنی پڑے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نئے اور موجودہ سولر صارفین کے لیے طریقہ کار میں نمایاں آسانی پیدا ہوگی۔ یہ نوٹیفکیشن 9 فروری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔

اس سے قبل تمام سولر صارفین کے لیے لازمی لائسنسنگ کی اطلاعات کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر پاور ڈویژن نے وضاحت کی تھی کہ ایسی خبریں گمراہ کن تھیں۔ وزارت نے واضح کیا تھا کہ لائسنسنگ کے قوانین پہلے سے ہی نیپرا کے ریگولیٹری دائرہ کار میں موجود تھے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے ان پر عمل درآمد کیا جا رہا تھا، وفاقی حکومت نے کوئی نیا قانون متعارف نہیں کرایا۔

وزارت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ آف گرڈ سولر صارفین کو تنصیب کے لیے کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہے، تاہم آن گرڈ صارفین نیٹ میٹرنگ کے قواعد کے تحت ریگولیٹری طریقہ کار کے پابند ہیں۔

حکام نے ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ ایک ہزار روپے فی کلو واٹ کی فیس صرف آن گرڈ کنکشنز کے لیے تھی اور سولر سسٹم پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -