وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف زمینی سطح پر معرکہ حق میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ایک مضبوط پوزیشن حاصل کر کے بین الاقوامی سطح پر امن کے علمبردار کے طور پر ابھرا ہے۔
اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان سفارتی اور عسکری دونوں سطحوں پر عالمی برادری میں مستحکم مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے برعکس مشرقی سرحد پار تنہائی، ناکامی اور شرمندگی کا سامنا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی کبھی مشرقی سرحد سے مذمت نہیں کی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو ایسی ہی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا تھا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی کے بعد پاکستان عالمی سطح پر امن کے حامی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ صرف میدانِ عمل میں ہی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی لڑی گئی جہاں پاکستان نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔
پہلگام واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے ثبوت مانگے لیکن بھارت کوئی ٹھوس جواب دینے میں ناکام رہا۔ انہوں نے بھارت پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس کے خلاف فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے لوگ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے پہلگام واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔
وزیر اطلاعات نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاشرے کے مختلف طبقات کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور اس ضمن میں اے پی ایس سانحہ اور جعفر ایکسپریس حملے کا حوالہ دیا۔
عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا صارفین اور نوجوان نسل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی سطح پر بھارتی میڈیا کے بیانیے کو بے نقاب کیا اور پاکستان کے پرامن تشخص کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارت نے پاکستانی یوٹیوب چینلز کو بلاک کیا تو پاکستانیوں نے سرحد پار قومی گیت اور ترانے نشر کر کے بھرپور جواب دیا۔
