راولپنڈی میں جماعت اسلامی کی رکنیت سازی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز یعنی آئی پی پیز کے معاہدے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کے ایک لیٹر پر 153 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے اور کیپیسٹی پیمنٹس کی آڑ میں قومی خزانے کو خالی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سو روپے کی سبسڈی نہیں بلکہ ظالمانہ ٹیکسوں کے خاتمے کی بات کر رہی ہے کیونکہ عوام بھیک نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ملک میں جاگیرداروں اور اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے عوام کو کچھ نہیں دیا، پرانا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اب ملک کو درست سمت میں لے جانے کے لیے حقیقی تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے، بشرطیکہ آئی پی پیز کے معاہدے ختم کر دیے جائیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر عائد کی گئی غیر قانونی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں اور عید کے فوراً بعد اس حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاجروں کے ساتھ مارکیٹوں کے اوقات کار پر بات چیت ہونی چاہیے اور جماعت اسلامی آئی پی پیز اور گندم مافیا کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کرے گی۔
موسم کی خرابی اور تیز بارش کے باوجود تقریب میں شرکت کرنے پر کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیزل اور پیٹرول پر 400 روپے تک ٹیکس لگا کر حکومت نے عوام پر بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے خلاف عوام کو ساتھ لے کر سڑکوں پر نکلیں گے۔
