لاہور میں وائلڈ لائف رینجرز نے سوشل میڈیا پر ایک مردہ افریقی شیر کی کھال اتارنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وائلڈ لائف محکمے نے تحقیقات کا آغاز کیا اور چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔
ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور سخی محمد جوئیہ نے بتایا کہ ملزمان بیگم کوٹ کے علاقے میں غیر قانونی طور پر ٹیکسی ڈرمی کا کاروبار چلا رہے تھے جہاں جنگلی جانوروں کی کھالیں اتار کر انہیں محفوظ کیا جاتا تھا۔ سخی محمد جوئیہ کے مطابق مرکزی ملزم ہارون کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ چھاپے کے دوران دیگر ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تلاشی کے دوران ملزم کے گھر سے بڑی تعداد میں سٹف کیے گئے جانور بھی برآمد ہوئے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے شیر کی باقیات تاحال برآمد نہیں کی جا سکیں۔ محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق اس غیر قانونی نیٹ ورک میں تین سے چار خاندان ملوث ہیں جو جنگلی جانوروں اور پرندوں کو غیر قانونی طور پر سٹف کرنے کا کام کر رہے تھے۔ یہ کارروائی وائلڈ لائف پروٹیکشن قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔
پاکستان میں گھروں اور ڈرائنگ رومز میں سٹف کیے گئے جانوروں اور شکار کی ٹرافیاں رکھنے کا رواج عام ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بغیر اجازت ایسا کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 اور اس میں ہونے والی ترامیم کے تحت جنگلی جانور یا پرندے رکھنے کے لیے محکمہ وائلڈ لائف سے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہے۔ قانون کے مطابق کسی جانور کے مرنے کی صورت میں فوری طور پر محکمہ کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کے حکام نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اجازت کے بغیر کسی جنگلی جانور کی کھال اتارنا، اسے محفوظ کرنا یا سٹف کرنا غیر قانونی ہے۔ ٹیکسی ڈرمی کا کام صرف لائسنس یافتہ افراد ہی تحریری اجازت کے بعد کر سکتے ہیں۔ قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور قید جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
