-Advertisement-

خیبر پختونخوا کی نوجوان سیلر حجاب اجمل نے نیشنل گیمز میں تاریخ رقم کر دی

تازہ ترین

پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین پہلے ٹیسٹ میچ کا آغاز کل سے ہوگا

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز جمعہ 8 مئی سے ہو...
-Advertisement-

کراچی میں دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والے 35 ویں نیشنل گیمز میں خیبر پختونخوا کی نوجوان سیلر حجاب اجمل نے تاریخ رقم کرتے ہوئے سیلنگ کے شعبے میں صوبے کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیت لیا ہے۔ اس تاریخی کامیابی کے ساتھ ہی خیبر پختونخوا کی 15 رکنی ٹیم نے پاکستان نیوی، پاک فضائیہ، فوج، پنجاب اور سندھ جیسی مضبوط ٹیموں کے مدمقابل رہتے ہوئے مجموعی طور پر آٹھ میڈلز اپنے نام کیے۔

حجاب اجمل نے لیزر ریڈیل سیل کیٹیگری میں طلائی تمغہ حاصل کیا جبکہ ان کی ہمشیرہ آمنہ نے اپنی تین رکنی ٹیم کے ہمراہ چاندی کا تمغہ جیتا۔ اس کے علاوہ مریم عباسی نے انفرادی کیٹیگری میں چاندی اور تحریم عباسی نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ ان کے والد سجاد عباسی بھی کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے جس سے اس کھیل میں اس خاندان کی نمایاں خدمات کا اظہار ہوتا ہے۔

ٹیم کے کوچ رحیم داد خان کا کہنا ہے کہ وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود کھلاڑیوں کی کارکردگی غیر معمولی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2019 میں پاکستان نیوی سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے صوبے کی پہلی سیلنگ ٹیم تشکیل دی تھی۔ ان کا تعلق نوشہرہ سے ہے اور وہ خیبر پختونخوا میں اس کھیل کو فروغ دینا چاہتے ہیں تاہم صوبے میں کشتی رانی پر پابندی کے باعث کھلاڑیوں کو تربیت کے لیے ہر سال کراچی کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

کوچ کے مطابق خانپور اور تربیلا ڈیم سیلنگ کے لیے بہترین مقامات ہیں لیکن پابندی کے باعث کھلاڑی تربیت سے محروم ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سیلنگ ایک مہنگا کھیل ہے اور کشتیوں کی قیمت عام کھلاڑیوں کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ فی الحال کھلاڑیوں کا انحصار پاکستان نیوی کی فراہم کردہ کشتیوں پر ہے کیونکہ فوج اور فضائیہ کی ٹیمیں بھی اپنی کشتیاں نہیں رکھتیں۔

حجاب کے والد اجمل، جو پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ افسر ہیں، نے بتایا کہ ان کے بچوں نے 2021 میں کراچی بوٹ کلب سے تربیت کا آغاز کیا تھا۔ کوچ رحیم داد خان سے ملاقات کے بعد حجاب اور ان کے بہن بھائیوں نے تیزی سے مہارت حاصل کی اور اب تک یہ خاندان مجموعی طور پر 12 گولڈ، 16 سلور اور تین برونز میڈلز جیت چکا ہے۔ ایشین سیلنگ فیڈریشن کے نائب صدر اے آر ارشد نے ان کھلاڑیوں کے لیے ایئر فورس کلب میں مفت رکنیت کا انتظام بھی کیا تھا۔

گولڈ میڈلسٹ حجاب اجمل کا کہنا ہے کہ وہ کھیلوں کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہیں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں ٹاپ کرنے کے بعد اب سکالرشپ پر کالج کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے ابوظہبی میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی ہے۔ تاہم انہوں نے حکومتی سطح پر سرپرستی کی کمی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو کراچی میں کیمپوں کے دوران کھلاڑیوں کے رہائشی اور تربیتی اخراجات میں معاونت کرنی چاہیے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -