-Advertisement-

پاکستان نے نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیاروں کو پناہ دینے کے الزامات مسترد کر دیے

تازہ ترین

یورپی یونین کی افغان مہاجرین کی واپسی پر طالبان حکام کو برسلز آنے کی دعوت

یورپی کمیشن نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ وہ افغان تارکین وطن کی وطن واپسی کے معاملے...
-Advertisement-

سی بی ایس نیوز کی جانب سے یہ دعویٰ کہ پاکستان نے ایرانی فوجی طیاروں کو امریکی حملوں سے بچانے کے لیے اپنے ایئربیس پر پناہ دی، سراسر گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ سفارتی امور کی غلط تشریح پر مبنی ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ وضاحت سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گزشتہ ماہ جنگ بندی کے بعد نور خان ایئربیس پر ایران کے سی-130 ہرکولیس سمیت کئی طیارے موجود تھے۔

سفارتی عمل سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی محدود اور عارضی موجودگی کا تعلق تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے انتظامی امور سے تھا۔ ان طیاروں کی موجودگی کو علاقائی اور عالمی امن کے مخالفین نے بلاوجہ تنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔

حکام کے مطابق جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور کے دوران امریکہ اور ایران دونوں کے طیارے سفارتی عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو لے کر پاکستان پہنچے تھے۔ یہ طیارے انتظامی اور لاجسٹک ضروریات کے تحت وہاں موجود تھے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد کچھ ایرانی طیارے اور عملہ دوسرے مرحلے کی توقع میں پاکستان میں ہی رہا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بھی اس دوران دو بار اسلام آباد کا دورہ کیا اور پہلے سے موجود سیکیورٹی انتظامات نے ان دوروں کو ممکن بنایا۔

اسی طرح امریکی طیارے اور سیکیورٹی ٹیمیں بھی پاکستان پہنچیں، تاہم چند روز بعد انہیں واپس علاقائی امریکی اڈوں پر منتقل کر دیا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کیا اور تہران اور واشنگٹن دونوں کو برابر سہولیات فراہم کیں۔

پاکستان نے دونوں فریقین کو ہر مرحلے پر اعتماد میں لیا اور اپنی پالیسی میں مکمل شفافیت برقرار رکھی۔ اس تاثر کو مسترد کر دیا گیا کہ طیاروں کو کسی فوجی کارروائی سے بچانے کے لیے پناہ دی گئی تھی۔ یہ طیارے جنگ بندی کے دوران آئے تھے جب کوئی فعال عسکری کشیدگی موجود نہیں تھی۔

ذرائع نے کہا کہ جس وقت یہ طیارے پاکستان میں تھے، اس دوران ایران کے اندر بھی کسی قسم کی امریکی کارروائی نہیں ہو رہی تھی، لہذا انہیں حملوں سے بچانے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

کچھ حلقے معمول کی سفارتی سرگرمیوں کو سنسنی خیز بنا کر خطے کو دوبارہ تشدد کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنا جاری رکھے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -