ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی مئی 2026 کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی حیثیت میں تنزلی ہوئی ہے اور یہ 100 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ رواں سال فروری میں پاکستان کی پوزیشن 97 ویں نمبر پر بہتر ہوئی تھی تاہم اب اس میں تین درجے کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
انڈیکس کے مطابق رواں سال کے ابتدائی مہینوں یعنی جنوری اور فروری میں پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی 98 سے 97 تک پہنچی تھی اور اس دوران بالترتیب 31 اور 32 ممالک تک رسائی حاصل تھی۔ گزشتہ برس 2025 میں پاکستان کا عالمی درجہ 103 واں تھا۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز اب دنیا کے صرف 30 ممالک میں ویزا فری، ویزا آن ارائیول یا الیکٹرانک ٹریول اتھورائزیشن کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔ فروری میں یہ تعداد 32 تھی جس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی ویزا پالیسیوں اور دو طرفہ سفری معاہدوں میں تبدیلیوں کے باعث دو منزلوں تک رسائی کم ہوئی ہے۔
پاکستانی شہری بارباڈوس، ڈومینیکا، روانڈا، گیمبیا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور وانواتو سمیت دیگر ممالک کا ویزا فری سفر کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کمبوڈیا، مالدیپ، نیپال، ساموا اور تیمور لیسٹ میں ویزا آن ارائیول کی سہولت دستیاب ہے جبکہ کینیا، سیشلز اور سری لنکا جانے کے لیے الیکٹرانک ٹریول اتھورائزیشن درکار ہوتی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی نقل و حرکت میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ طویل مدتی پالیسیوں کے بجائے عالمی ویزا قوانین میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کی روشنی میں 227 ممالک کے لیے 199 پاسپورٹس کی درجہ بندی کرتا ہے۔
عالمی فہرست میں سنگاپور، جاپان، جنوبی کوریا اور کئی یورپی ممالک سرفہرست ہیں جن کے شہریوں کو 180 سے زائد ممالک تک رسائی حاصل ہے۔ اگرچہ پاکستان کی رینکنگ میں کمی آئی ہے تاہم پاکستانی شہری اب بھی درجنوں ممالک میں ویزا فری، ویزا آن ارائیول اور ای ویزا کی سہولیات کے ذریعے سفر کرنے کے اہل ہیں۔
