-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: جنوبی افریقہ کے ساحلوں پر وہیل مچھلیوں کی زندگی کو خطرات لاحق

تازہ ترین

ہینٹا وائرس سے متاثرہ بحری جہاز ٹینریف سے نیدرلینڈز کے لیے روانہ

ہینٹا وائرس سے متاثرہ لگژری کروز شپ ایم وی ہونڈیئس ہسپانوی جزیرے ٹینریف سے نیدرلینڈز کے لیے روانہ ہو...
-Advertisement-

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خدشات کے باعث عالمی تجارتی جہازوں کا رخ جنوبی افریقہ کی جانب موڑنے سے وہیل مچھلیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار تئیس کے اواخر سے بحری جہازوں کے روٹ تبدیل ہونے کے بعد وہیل مچھلیوں کے ساتھ جہازوں کے ٹکرانے کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یونیورسٹی آف پریٹوریا کی ماہر الس ورمولن کی جانب سے انٹرنیشنل وہیلنگ کمیشن کے اجلاس میں پیش کردہ تحقیقی مقالے میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ کا جنوب مغربی ساحل وہیل مچھلیوں کی بڑی آبادی کا مسکن ہے، جہاں اب تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال آبی حیات اور جہاز رانی کے راستوں کے درمیان خطرناک حد تک مداخلت پیدا کر رہی ہے۔

آئی ایم ایف کے پورٹ واچ مانیٹر کے اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ سے چوبیس اپریل کے دوران جنوبی افریقہ کے گرد گزرنے والے تجارتی جہازوں کی یومیہ اوسط نواسی رہی، جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران یہ تعداد چوالیس تھی۔ یہ تبدیلی اس وقت آئی جب حوثی باغیوں کی جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد شپنگ کمپنیوں نے کیپ آف گڈ ہوپ کا طویل راستہ اختیار کرنا شروع کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہیل مچھلیوں کے پاس اتنی تیزی سے تبدیل ہونے والی آبی ٹریفک کے مطابق خود کو ڈھالنے کا وقت نہیں ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے کرس جانسن کے مطابق کچھ اقسام کی وہیل مچھلیاں شور سن کر راستہ تبدیل کرنے کے بجائے وہیں موجود رہتی ہیں، جس سے ان کے ٹکرانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث وہیل مچھلیوں کی خوراک حاصل کرنے کی عادات میں بھی تبدیلی آئی ہے جو انہیں مصروف ترین شپنگ کوریڈورز کی جانب لے آتی ہے۔

تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ بحری جہازوں کے روٹس کو ساحل سے کچھ دور منتقل کرنے سے وہیل مچھلیوں کے ٹکرانے کے خطرات میں بیس سے پچاس فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس معمولی تبدیلی سے جہازوں کے مجموعی سفر میں نہ ہونے کے برابر اضافہ ہوگا۔

جنوبی افریقہ کی وزارت ماحولیات نے اس مسئلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام دستیاب سائنسی حل اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مطالعات مکمل ہونے کے بعد میری ٹائم اتھارٹیز کے ساتھ مل کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا تاکہ ان آبی حیات کو معدومیت سے بچایا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -