-Advertisement-

ایران سے چین کو تیل کی ترسیل: امریکا کی نئی پابندیاں عائد

تازہ ترین

ہینٹا وائرس سے متاثرہ بحری جہاز ٹینریف سے نیدرلینڈز کے لیے روانہ

ہینٹا وائرس سے متاثرہ لگژری کروز شپ ایم وی ہونڈیئس ہسپانوی جزیرے ٹینریف سے نیدرلینڈز کے لیے روانہ ہو...
-Advertisement-

امریکی حکومت نے پیر کے روز ایران سے چین کو تیل کی ترسیل میں معاونت کرنے کے الزام میں تین افراد اور نو کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان کمپنیوں میں سے چار کا تعلق ہانگ کانگ، چار کا متحدہ عرب امارات اور ایک کا تعلق عمان سے ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے یہ اقدام جمعہ کو ان افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے جو ایران کو ہتھیاروں، ڈرون طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے پرزہ جات کی خریداری میں مدد فراہم کر رہے تھے۔

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی متوقع ملاقات سے چند روز قبل سامنے آئی ہے۔ توقع ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی ملاقات میں چینی قیادت پر زور دیں گے کہ وہ ایران کے ساتھ تعطل کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں ان افراد اور اداروں کے خلاف ہیں جنہوں نے ایران کی پاسداران انقلاب کو فرضی کمپنیوں کے ذریعے اپنا تیل چین کو فروخت کرنے اور بھیجنے میں مدد فراہم کی۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کی حکومت اور عسکری قیادت کو ہتھیاروں، جوہری پروگرام اور خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کے لیے فنڈز سے محروم کرنے کی پالیسی جاری رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ خزانہ ایرانی حکومت کو ان مالیاتی نیٹ ورکس سے منقطع رکھے گا جنہیں وہ دہشت گردانہ کارروائیوں اور عالمی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کے مالیاتی نظام کو درہم برہم کرنے کے لیے معلومات فراہم کرنے والے کو ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر تک کا انعام دیا جائے گا۔ امریکہ پاسداران انقلاب کو پہلے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق پاسداران انقلاب ایرانی تیل کی ترسیل کے انتظامات اور رقوم کی وصولی کے لیے شیل کمپنیوں کا سہارا لیتی ہے۔ پیر کا یہ اقدام جولائی 2025 میں ترکی میں قائم گولڈن گلوب نامی کمپنی پر عائد پابندیوں کا تسلسل ہے، جو مبینہ طور پر ہر سال پاسداران انقلاب کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کے تیل کی فروخت کا انتظام سنبھالتی ہے۔

جن تین افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، وہ پاسداران انقلاب کے شاہد پورجعفری آئل ہیڈکوارٹر کے لیے کام کرتے ہیں اور گولڈن گلوب کے ذریعے ادائیگیوں کے معاملات کو مربوط کرتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -