اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل بحال نہ کی گئی تو دنیا بھر میں کروڑوں افراد قحط اور بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ آبنائے عالمی سطح پر استعمال ہونے والی ایک تہائی کھاد کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، جسے ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے ردعمل میں کئی ماہ سے بند کر رکھا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے پراجیکٹ سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور انسانی بحران سے نمٹنے والی ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریرا ڈا سلوا نے پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس انسانی المیے کو روکنے کے لیے صرف چند ہفتے باقی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد خوراک کی شدید قلت اور بھوک کا سامنا کریں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مارچ میں اس ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا تھا جس کا مقصد کھاد اور اس سے متعلقہ خام مال بشمول امونیا، سلفر اور یوریا کی ترسیل کے لیے ایک میکانزم تیار کرنا ہے۔ ڈا سلوا اب تک 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں تاکہ اس منصوبے کے لیے حمایت حاصل کی جا سکے۔
منصوبے کے حوالے سے عالمی سطح پر حمایت بڑھ رہی ہے تاہم امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک، جو کھاد کے اہم پیداواری مراکز ہیں، تاحال مکمل طور پر اس پر متفق نہیں ہو سکے۔ ڈا سلوا کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور ہر قسم کی تجارت کے لیے نقل و حمل کی آزادی اولین ترجیح ہونی چاہیے، لیکن کاشتکاری کا سیزن انتظار نہیں کر سکتا، خاص طور پر افریقی ممالک میں فصلوں کی بوائی کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
اگرچہ عالمی توجہ اس ناکہ بندی کے تیل اور گیس کی تجارت پر اثرات پر مرکوز ہے، مگر اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس کا سب سے بڑا خطرہ عالمی غذائی تحفظ کو لاحق ہے، جس سے افریقہ اور ایشیا کے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
ڈا سلوا کے مطابق اقوام متحدہ سات دن کے اندر کھاد کی ترسیل کا میکانزم فعال کر سکتا ہے، تاہم اگر آبنائے کو فوری کھول بھی دیا جائے تو صورتحال کو معمول پر آنے میں تین سے چار ماہ لگیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے زرعی پیداوار کم ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں غذائی اجناس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے روزانہ اوسطاً پانچ بحری جہازوں کو کھاد اور خام مال لے جانے کی اجازت دی جائے۔ ڈا سلوا نے زور دیا کہ اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی عزم کا فقدان ہے، اور ہمیں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
