-Advertisement-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج: ابتدائی تیزی کے بعد کے ایس ای-100 انڈیکس میں 665 پوائنٹس کی گراوٹ

تازہ ترین

ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل بیجنگ کا تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی مخالفت کا اعادہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل بیجنگ نے تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت پر اپنی...
-Advertisement-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا۔ کاروباری دن کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کے رجحان کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس میں 900 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا تاہم یہ تیزی عارضی ثابت ہوئی۔

دن کے وسط میں سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے فروخت کے دباؤ نے ابتدائی تمام تر فوائد ختم کر دیے اور انڈیکس سرخ زون میں داخل ہو گیا۔ دوپہر 2 بج کر 12 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 665 اعشاریہ 56 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 169،840 اعشاریہ 75 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

اسٹاک مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران 28 کروڑ 40 لاکھ 31 ہزار 410 شیئرز کا کاروبار ہوا جن کی کل مالیت 12 ارب 2 کروڑ 27 لاکھ 67 ہزار 811 روپے رہی۔ عالمی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور معاشی خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل پیر کے روز بھی مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا۔ امریکا اور ایران کے مابین امن مذاکرات سے جڑی غیر یقینی صورتحال کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 610 پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوا۔ پیر کو کاروبار کا آغاز منفی انداز میں ہوا اور صبح 9 بج کر 34 منٹ پر انڈیکس 1433 اعشاریہ 57 پوائنٹس گر کر 169،682 اعشاریہ 25 کی سطح پر آ گیا تھا۔

پیر کے روز سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ اور پاور جنریشن کے شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے تجزیہ کار علی نجیب کے مطابق جیو پولیٹیکل خدشات اور امریکا و ایران کے حکام کی جانب سے سخت بیانات کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات نے مارکیٹ کے مجموعی مزاج کو متاثر کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -