-Advertisement-

کراچی: منشیات فروش خاتون کو ہتھکڑی لگائے بغیر عدالت لانے پر تین پولیس اہلکار معطل

تازہ ترین

امریکہ میں افراطِ زر تین سالہ بلند ترین سطح پر، سٹگفلیشن کا خدشہ

امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل دوسرے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران...
-Advertisement-

کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ نیٹ ورک چلانے والی ملزمہ انمول عرف پنکی کو بغیر ہتھکڑی اور غیر معمولی سیکیورٹی کے ساتھ عدالت پیش کرنے پر پولیس حکام نے کارروائی کرتے ہوئے گارڈن تھانے کے تین افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔

پولیس چیف کراچی نے واقعے پر عوامی تنقید اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے گارڈن تھانے کے ایس ایچ او حنیف سیال، تفتیشی افسر سب انسپکٹر سعید احمد اور سینئر تفتیشی افسر انسپکٹر ظفر اقبال کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی ساؤتھ کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

ملزمہ انمول عرف پنکی کو منشیات سے متعلق مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت منتقلی کے دوران وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمہ انتہائی اطمینان کے ساتھ چل رہی ہے جبکہ پولیس اہلکار اس کے پیچھے موجود ہیں۔ ملزمہ کو ہتھکڑی نہیں لگائی گئی تھی اور نہ ہی سیکیورٹی کے معیاری انتظامات دکھائی دیے۔

عدالتی احاطے میں موجود عینی شاہدین کے مطابق ملزمہ نے اپنے وکیل سے موبائل فون لے کر طویل گفتگو بھی کی اور اس دوران وہ کافی پرسکون دکھائی دی۔ پولیس نے ملزمہ کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے ابتدائی تحویل منظور کی۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی ملک بھر میں کوکین کا ایک وسیع نیٹ ورک چلانے میں ملوث ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک میں منشیات کی سب سے بڑی ڈیلرز میں سے ایک ہے اور اربوں روپے مالیت کی منشیات کی تیاری اور تقسیم میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔ ملزمہ کے خلاف دو الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -