-Advertisement-

لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 380 تک پہنچ گئی

تازہ ترین

امریکہ میں افراطِ زر تین سالہ بلند ترین سطح پر، سٹگفلیشن کا خدشہ

امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل دوسرے ماہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران...
-Advertisement-

واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات سے قبل اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فضائی حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ بیروت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 17 اپریل کو جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 380 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے خبردار کیا ہے کہ وہ میدان جنگ کو اسرائیلی فوج کے لیے جہنم بنا دیں گے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی تنظیم کے ہتھیاروں پر جمعرات اور جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں کوئی بات نہیں ہوگی، جبکہ امریکہ کی جانب سے تنظیم کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق منگل کے روز نبطیہ شہر میں اسرائیلی حملے کا نشانہ سول ڈیفنس کی ٹیم بنی جو پہلے سے جاری حملے کے متاثرین کو طبی امداد فراہم کر رہی تھی۔ اس واقعے میں دو ریسکیو اہلکار اور ایک زخمی شخص جاں بحق ہو گیا۔ وزارت نے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

لبنان کے وزیر صحت راکان ناصر الدین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک 1122 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں 39 خواتین اور 22 بچے شامل ہیں۔ وزیر صحت نے جنگ بندی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اسے شہریوں کے خلاف منظم حملے قرار دیا۔

سیو دی چلڈرن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی 25 دنوں کے دوران لبنان میں روزانہ اوسطاً چار سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تنظیم کی کنٹری ڈائریکٹر نورا انگڈال کا کہنا ہے کہ شہریوں پر حملے کسی اور نام سے بدستور جاری ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے علاقے لیتانی میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے خصوصی آپریشن کر رہی ہے۔ اسرائیل نے حزب اللہ پر ایمبولینسوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم حزب اللہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

یکم مارچ کو شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک کل ہلاکتوں کی تعداد 2882 تک پہنچ چکی ہے، جن میں 279 خواتین اور 200 بچے شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 108 طبی اور ایمرجنسی ورکرز بھی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ کا کہنا ہے کہ خطے میں جامع امن کا انحصار لبنانی ریاست کی مکمل بحالی اور حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے پر ہے۔ تاہم نعیم قاسم نے ہتھیاروں کو داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ حزب اللہ نے دو مارچ کو ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے انتقام میں اسرائیل پر راکٹ حملے کیے تھے جس کے بعد سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -