-Advertisement-

پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق ٹلسی گبارڈ کا دعویٰ زمینی حقائق کے منافی ہے: جلیل عباس جیلانی

تازہ ترین

اہلیہ سے متعلق سوال پر پیئرز مورگن کا لائیو انٹرویو ادھورا چھوڑ کر واک آؤٹ

برطانوی نشریاتی ادارے کے میزبان پیئرز مورگن اپنے شو پیئرز مورگن اَن سینسرڈ کے دوران سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیریسن...
-Advertisement-

سابق نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں پاکستان کے میزائل پروگرام کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ یہ دعویٰ کہ امریکی سرزمین پاکستان کے جوہری یا روایتی میزائلوں کی زد میں ہے، زمینی حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا جوہری نظریہ صرف بھارت تک محدود ہے جس کا مقصد جنوبی ایشیا میں توازن برقرار رکھنا ہے، نہ کہ عالمی سطح پر طاقت کا مظاہرہ کرنا۔

بدھ کے روز امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے 2026 کا سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ پیش کرتے ہوئے تلسی گیبارڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان ایسے میزائل نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس چیف نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں ممکنہ طور پر انٹر کانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل بھی شامل ہو سکتے ہیں جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گیبارڈ نے خبردار کیا کہ آئندہ دہائی میں میزائل خطرات میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے اور 2035 تک یہ تعداد موجودہ 3 ہزار سے بڑھ کر 16 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جوہری خطرات کی فہرست میں شامل کرنا امریکی پالیسی کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2024 میں بھی وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اسی نوعیت کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد امریکہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے وابستہ چار اداروں پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -