-Advertisement-

ایران کیخلاف جنگی اتحاد کی امریکی اپیل، یورپی ممالک کا دو ٹوک انکار

تازہ ترین

اہلیہ سے متعلق سوال پر پیئرز مورگن کا لائیو انٹرویو ادھورا چھوڑ کر واک آؤٹ

برطانوی نشریاتی ادارے کے میزبان پیئرز مورگن اپنے شو پیئرز مورگن اَن سینسرڈ کے دوران سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیریسن...
-Advertisement-

ویب ڈیسک: آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی امداد کے مطالبے پر یورپی اتحادیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹوک انکار کر دیا ہے جس کے بعد ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں تاریخی دراڑ نمایاں ہو گئی ہے۔ عالمی معیشت کو متاثر کرنے والے اس بحری بحران کے باوجود برلن، پیرس اور لندن نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یورپی رہنماؤں کا موقف ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے نہ تو کوئی واضح اہداف مقرر کیے گئے اور نہ ہی سفارتی مشاورت کا عمل اپنایا گیا۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے غیر معمولی سخت لہجہ اپناتے ہوئے قانون سازوں سے خطاب میں امریکی قیادت میں ہونے والے حملوں کے جواز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کامیابی کا کوئی بھی قابل یقین منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے اس معاملے پر مزید مختصر اور دو ٹوک بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی اسی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فرانس اس تنازع کا فریق نہیں ہے۔

یورپی ممالک کی یہ ہچکچاہٹ ایک غیر متوقع علاقائی جنگ میں گھسٹ جانے کے خوف سے پیدا ہوئی ہے۔ جرمنی اور اسپین میں ہونے والے عوامی جائزوں سے یہ بات واضح ہے کہ وہاں کی اکثریت فوجی مداخلت کی شدید مخالف ہے۔ اس صورتحال پر صدر ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے انکار کو ایک احمقانہ غلطی قرار دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے خلاف صدر ٹرمپ کے طنزیہ بیانات پر برطانیہ میں سخت ردعمل دیکھا گیا ہے۔

یو گو ڈیٹا کے مطابق نصف برطانوی عوام ان حملوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں سیاسی حریفوں نے بھی وزیراعظم کا دفاع کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی زبان کو بچگانہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسپین نے ان حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تجارتی پابندیوں کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالس نے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ یورپی یونین اب امریکہ کے بغیر عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے آزادانہ منصوبے تیار کر رہی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -