سندھی موسیقی کے جدید منظر نامے میں ایک اور دلکش اضافہ سامنے آیا ہے جس میں معروف گلوکارہ شکیلہ نون کی آواز نے موسیقی کے شائقین کو مسحور کر دیا ہے۔ اس نئے ٹریک کا عنوان دل گھورے پئے دلبری ہے جس کا مفہوم دل کا محبت کے لیے تڑپنا ہے۔
اس تخلیقی کاوش کے بول اسحاق تونیو نے لکھے ہیں جبکہ دھنیں عرفان سامو نے ترتیب دی ہیں۔ یہ گیت جدید سندھی لوک موسیقی کے اس جذباتی انداز کی عکاسی کرتا ہے جو سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
گانے میں شکیلہ نون کی آواز مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے انتہائی سادگی اور خلوص کے ساتھ گائیکی کا مظاہرہ کیا ہے جو اسحاق تونیو کی شاعری کے مزاج سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ گلوکارہ نے غیر ضروری اتار چڑھاؤ کے بجائے الفاظ کے مفہوم پر توجہ مرکوز رکھی ہے جس سے گیت کا بیانیہ مزید نکھر کر سامنے آیا ہے۔
اسحاق تونیو کی شاعری روایتی موضوعات جیسے کہ جدائی، عقیدت اور انسانی جذبات کے گرد گھومتی ہے۔ انہوں نے پیچیدہ استعاروں کے بجائے سادہ اور پر اثر الفاظ کا انتخاب کیا ہے تاکہ شہری اور دیہی دونوں طرح کے سامعین اس سے جڑ سکیں۔
موسیقی کی ترتیب میں عرفان سامو نے توازن برقرار رکھا ہے۔ سندھی فوک پاپ کے روایتی ردھم اور دھنوں کو جدید انداز میں پیش کیا گیا ہے جس میں سازوں کا شور آواز پر حاوی نہیں ہوتا۔
گانے کی ویڈیو بھی موسیقی کے جذباتی آہنگ سے ہم آہنگ ہے۔ اس میں کسی پیچیدہ کہانی کے بجائے تاثراتی انداز اپنایا گیا ہے تاکہ توجہ مکمل طور پر گائیکی اور شاعری پر مرکوز رہے۔
شکیلہ نون، اسحاق تونیو اور عرفان سامو کا یہ اشتراک سندھی موسیقی کے ارتقاء میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔ اگرچہ یہ گیت کسی بڑے تجربے کا دعویٰ نہیں کرتا تاہم اپنی سادگی، شفافیت اور ثقافتی قربت کے باعث یہ مقامی موسیقی کے شائقین کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔
