وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزارت نے واضح کیا کہ عید الفطر کے پیش نظر پاکستان کی جانب سے یکطرفہ طور پر شروع کی گئی جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور مغربی سرحد پر صورتحال پرسکون ہے۔
وفاقی وزارت نے اپنے فیکٹ چیک میں کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کیے جانے والے دعوے حقائق کے منافی ہیں۔ حکومتی ترجمان کا ماننا ہے کہ اس قسم کا پروپیگنڈا طالبان حکومت میں موجود تخریب کار عناصر کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی یا دیگر کارروائیوں کے لیے بہانہ تراشا جا سکے۔
پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ اگر سرحد پار سے کسی قسم کا حملہ، ڈرون سٹرائیک یا دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آیا تو آپریشن غضب للحق فوری طور پر دوبارہ پوری شدت کے ساتھ شروع کر دیا جائے گا۔ اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان عید الفطر کے تناظر میں اٹھارہ انیس مارچ کی درمیانی شب سے تئیس چوبیس مارچ تک عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے برادر اسلامی ممالک کی درخواست اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی مشروط ہے اور پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغانستان میں منشیات کے بحالی مرکز کو نشانہ بنانے کے افغان طالبان کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی کے دوران صرف دہشت گردوں کے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے دعویٰ کیا تھا کہ فضائی حملے میں ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا جس میں چار سو افراد ہلاک ہوئے، تاہم پاکستان نے ان الزامات کو حقائق کو مسخ کرنے کی منظم مہم قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔
