-Advertisement-

جنگ بندی کی صورت میں جاپان آبنائے ہرمز میں مائن سویپنگ پر غور کر سکتا ہے

تازہ ترین

برطانیہ کا ایران کی جانب سے یورپ کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کے دعوے کو مسترد

برطانوی کابینہ کے وزیر اسٹیو ریڈ نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران یورپ کو بیلسٹک...
-Advertisement-

جاپان نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ میں مکمل جنگ بندی ہو جاتی ہے تو وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے اپنی فوج تعینات کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران کہا کہ اگرچہ یہ ایک مفروضہ ہے لیکن جنگ بندی کی صورت میں سمندری راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے فوجی کردار پر غور کیا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے اور دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے تیل کا پانچواں حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ جاپان اپنی تیل کی درآمدات کا تقریباً نوے فیصد حصہ اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، تاہم موجودہ جنگ کے باعث تہران نے اس گزرگاہ کو بڑی حد تک بند کر رکھا ہے۔

جاپانی آئین کے تحت ملک کی عسکری سرگرمیاں محدود ہیں، تاہم سن دو ہزار پندرہ کی سکیورٹی قانون سازی کے تحت جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز کو بیرون ملک تعینات کیا جا سکتا ہے اگر کسی قریبی اتحادی پر حملہ جاپان کی بقا کے لیے خطرہ بن جائے۔ وزیر خارجہ موتیگی نے واضح کیا کہ فی الحال جاپان کے پاس پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لیے کوئی فوری منصوبہ موجود نہیں، البتہ تمام جہازوں کی بحفاظت نقل و حمل کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کو بتایا کہ انہوں نے موتیگی سے جاپانی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جاپانی وزیراعظم سنائے تاکائچی سے ملاقات میں زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ملاقات کے بعد جاپانی وزیراعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر کو اپنے ملکی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ممکنہ تعاون سے آگاہ کر دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -