-Advertisement-

پاکستان کی خاموش سفارت کاری: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کا امکان

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے اشارے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد کمی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز تقریباً آٹھ فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔...
-Advertisement-

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی کے مراکز پر ممکنہ فوجی حملوں کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس پیش رفت کے پس منظر میں پاکستان کی خاموش مگر فعال سفارت کاری کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے جس میں ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر علاقائی تنازع کو وسیع تر ہونے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد نے انقرہ اور قاہرہ کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطوں کو بحال کرنے کے لیے مرکزی حیثیت اختیار کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عمل کے دوران اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے برقرار رکھے جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی علاقائی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تزویراتی سطح پر مشاورت کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کوشش کا مقصد فوری کشیدگی کا خاتمہ اور خطے میں دیرپا استحکام کی بنیاد رکھنا تھا۔ پاکستان نے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے متوازن تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک معتبر ثالث کا کردار ادا کیا۔

واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس پر حملوں کو پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران کے ساتھ حالیہ رابطوں کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا مقصد مشرق وسطیٰ میں دشمنی کا مکمل خاتمہ ہے۔ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری اقدامات کا اعتراف کیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی بامعنی حل کے لیے امریکا کا بطور فریق براہ راست شامل ہونا ضروری ہے۔

فروری کی 28 تاریخ سے شروع ہونے والے اس تنازع میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں 13 فیصد تک کمی دیکھی گئی اور وہ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئیں، تاہم بعد ازاں قیمت 101.66 ڈالر کے قریب مستحکم ہو گئی۔

زمینی صورتحال تاحال کشیدہ ہے کیونکہ اسرائیلی افواج کی جانب سے تہران میں انفراسٹرکچر پر حملے کیے گئے ہیں جبکہ ایران نے خرم آباد اور بوشہر سمیت کئی شہروں میں جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمنی جاری رہی تو اسرائیل اور خلیج میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کی ترسیل میں تعطل کا خدشہ بھی بدستور برقرار ہے جس سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر کی مشترکہ سفارتی کوششیں اس بات کی عکاس ہیں کہ علاقائی طاقتیں اب تنازعات کے حل کے لیے خود متحرک ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین نے اسلام آباد کی متوازن پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ایک نازک موڑ پر کشیدگی کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اب تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کیا یہ سفارتی کوششیں خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کر سکیں گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -