-Advertisement-

امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کا ایران کو 15 نکاتی منصوبہ پیش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی سینیٹ نے منگل کے روز صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی اختیارات کو محدود کرنے کی ڈیموکریٹک پارٹی کی حالیہ کوشش کو مسترد کر دیا۔ قرارداد کے حق میں 47 جبکہ مخالفت میں 53 ووٹ ڈالے گئے، جس کے باعث یہ سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال کے سوا تمام ریپبلکن ارکان نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ ڈیموکریٹک سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی کے موقف سے ہٹ کر اس کے خلاف ووٹ دیا۔

یہ رواں ماہ کے دوران تیسرا موقع ہے جب ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ کے اختیارات کو چیلنج کرنے والی ڈیموکریٹس کی قراردادوں کو بلاک کیا ہے۔ سینیٹر کرس مرفی کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کا مقصد کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی جارحیت کو روکنا تھا۔

بحث کے دوران سینیٹر کرس مرفی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے جہاں امریکا ایک غیر ملکی طاقت کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے اور امریکی فوجی ہلاک ہو رہے ہیں، تاہم کانگریس اس معاملے کو عوام سے چھپا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ اس جنگ کا دفاع کرنے اور اسے واضح کرنے سے قاصر ہے۔

سینیٹر ٹم کین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بھی تجویز جس سے فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑیں، اس کا انتہائی سخت جائزہ لیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکنز کا موقف ہے کہ صدر کو آئین اور 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت دفاعی مقاصد کے لیے فوجی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران امریکا کے لیے ایک فوری خطرہ تھا، تاہم ناقدین اس دعوے پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

ایک جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، وہیں تہران نے براہ راست بات چیت کی تردید کی ہے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ثالثوں کے ذریعے ایران کو پیغام بھیجا ہے۔

ادھر امریکی ایوان نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس اس معاملے پر قرارداد لانے پر غور کر رہے ہیں۔ ہاؤس مائنارٹی لیڈر حکیم جیفریز نے کہا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم ان کا عزم یہ ہے کہ جب بھی کوئی قرارداد ایوان میں لائی جائے تو اسے کامیاب بنایا جائے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -