آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ پرائس ڈفرنشل کلیمز کا طریقہ کار ملک میں ایندھن کی سپلائی میں تعطل کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درپیش مالی اور آپریشنل چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری پالیسی اصلاحات کی جائیں۔
اوماپ کے چیئرمین طارق وزیر علی نے وفاقی وزیر برائے توانائی علی پرویز ملک اور اوگرا کے چیئرمین کو ارسال کردہ مراسلات میں پیٹرولیم سیکٹر کی صورتحال کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں استحکام کے اقدامات معیشت کے لیے اہم ہیں تاہم موجودہ پی ڈی سی کا ڈھانچہ کمپنیوں پر غیر معمولی بوجھ ڈال رہا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرول پر پی ڈی سی کی سطح 78 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 176 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے جس سے کمپنیوں کے منافع میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اوماپ کا کہنا ہے کہ ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیوں سے انوینٹری مینجمنٹ اور مالی منصوبہ بندی ناممکن ہو گئی ہے۔
اوماپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو چھوٹی اور ابھرتی ہوئی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بند ہو سکتی ہیں جس سے ایندھن کی فراہمی میں شدید قلت کا خدشہ ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک کے ذریعے پی ڈی سی کے مرکزی انتظام، ادائیگیوں کا دورانیہ 15 دن تک بڑھانے، کمرشل بینکوں سے کم شرح سود پر فنانسنگ کی سہولت اور منظور شدہ مارجن کی فوری ادائیگی کی تجاویز دی ہیں۔
