-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کا ایران کو 15 نکاتی منصوبہ پیش

تازہ ترین

شمالی کوریا کا ایٹمی ہتھیار ترک نہ کرنے کا عزم، جوہری حیثیت کو ناقابلِ تنسیخ قرار دے دیا

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اپنے جوہری ہتھیاروں سے...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور تہران کی جانب سے ایک اہم رعایت بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ ارسال کیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس مجوزہ منصوبے میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنا، پراکسی گروپوں کی حمایت ترک کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔ اسرائیلی چینل 12 کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اس 15 نکاتی منصوبے پر بات چیت کے لیے ایک ماہ کی جنگ بندی کا خواہاں ہے۔

دوسری جانب تہران نے براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پیر کے روز ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ تاہم ایک باخبر ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران کو ایک منصوبہ بھیجا ہے، لیکن تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے غیر جوہری توانائی اور آبنائے ہرمز سے متعلق ایک قیمتی رعایت دی ہے۔ اس حوالے سے ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کو مطلع کیا ہے کہ غیر جارحانہ جہاز ایرانی حکام سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔

ایک جانب مذاکرات کی بازگشت ہے تو دوسری جانب خطے میں فوجی طاقت میں اضافہ بھی جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی 50 ہزار کی موجودہ نفری میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ایلیٹ 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے ہزاروں فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان جامع تصفیے کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ پاکستانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے بات چیت حتمی مراحل میں ہے اور اگر یہ ممکن ہوا تو آئندہ ایک ہفتے کے اندر ملاقات ہو سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -