امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کو امن معاہدے کے حصول کے لیے آبنائے ہرمز کو تیل کی نقل و حمل کے لیے فوری طور پر کھولنا ہوگا۔ میامی میں سعودی حمایت یافتہ ایف آئی آئی پرائیوٹ انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اس اہم آبی گزرگاہ کو طنزیہ انداز میں آبنائے ٹرمپ کا نام دے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگر تہران آبنائے کو بحال کر دے تو امن معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نام لینے کے بعد اسے آبنائے ٹرمپ کہہ کر مخاطب کیا اور پھر اسے اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ہاں کوئی بھی بات اتفاقیہ نہیں ہوتی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور تہران کی قیادت، بحریہ، فضائیہ اور جوہری پروگرام کو بھاری نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اب اس راستے کو کھولنا ہی پڑے گا۔
ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں کئی عمارتوں اور مقامات کے نام تبدیل کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے بعد خلیج میکسیکو کو خلیج امریکہ کا نام دیا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنے کا آپشن بھی زیر غور لا سکتا ہے جیسا کہ وینزویلا کے معاملے میں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اس آبی گزرگاہ پر جہازوں کے لیے مستقل ٹول سسٹم قائم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے جہاں سے دنیا بھر کی ایک پانچویں حصے کے برابر تیل کی سپلائی گزرتی ہے، تاہم جاری تنازع کے باعث یہاں جہاز رانی معطل ہو کر رہ گئی ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
