آپریشن غضب للحق کے بعد خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ آپریشن افغانستان میں روپوش دہشت گردوں کے خلاف 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آپریشن سے قبل صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ آپریشن کے بعد اب تک یہ تعداد 80 تک محدود ہو چکی ہے۔ رواں سال کے دوران دہشت گردی کے مجموعی واقعات کی تعداد 323 رہی ہے، تاہم آپریشن کے بارہویں ہفتے میں یہ واقعات کم ہو کر 12 رہ گئے ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے سے حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد اور بنوں میں ہونے والے حملوں کے ماسٹر مائنڈز بھی اسی آپریشن کے دوران ہلاک کیے گئے۔
چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا ہے کہ آپریشن کے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات میں کمی کو پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہترین کارکردگی کا نتیجہ قرار دیا۔
